حدیث نمبر: 26940
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ ، أَفَأَصِلُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، صِلِي أُمَّكِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک اور ضرورت مند تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26940
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003