حدیث نمبر: 26909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي ، وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ میں تو روزے سے تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رمضان کا قضاء روزہ تھا تو اس کی جگہ قضاء کرلو اور اگر نفلی روزہ تھا تو تمہاری مرضی ہے چاہے تو قضاء کرلو اور چاہے تو نہ کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة جعدة