حدیث نمبر: 26606
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ ، فَمَنْ أَنْكَرَ ، فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ كَرِهَ ، فَقَدْ سَلِمَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَغِبَ وَتَابَعَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا نُقَاتِلُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا ، مَا صَلَّوْا الصَّلَاةَ " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھوگے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854