حدیث نمبر: 26549
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا " , قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، قَالَ : فَأَتَاهَا يَشْتَدُّ ، أَوْ يُسْرِعُ شَكَّ شَاذَانُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ ، أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ أَبَدًا.
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہونگے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس تیزی سے پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع