مسند احمد
ومن مسند بني هاشم
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَالَ رَجُلٌ : كَمْ يَكْفِينِي مِنَ الْوُضُوءِ ؟ قَالَ : مُدٌّ , قَالَ : كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ ؟ قَالَ : صَاعٌ , فَقَالَ الرَّجُلُ : لَا يَكْفِينِي , قَالَ : لَا أُمَّ لَكَ ، قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ ایک شخص نے پوچھا کہ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا: ایک مد کے برابر، اس نے پوچھا کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ فرمایا: ایک صاع کے برابر، وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے تو اتنا پانی کفایت نہیں کرتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، اتنی مقدار اس ذات کو کافی ہو جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔