حدیث نمبر: 26271
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ , فَتَخْتَارُهُ , قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا , فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ " فَقُلْتُ : وَمَا هَذَا الْأَمْرُ ؟ قَالَتْ : فَتَلَا عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُشَاوِرَ أَبَوَيَّ ؟ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ : فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ , وَقَالَ : " سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ " , فَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ , ثُمَّ يَقُولُ : " قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ " , قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی بات رکھوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی بتا دیتے تھے، کہ عائشہ نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو اختیار دیا، ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع