حدیث نمبر: 26050
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي لَيْثٍ , عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينِ الْبَغِيضِ النَّافِعِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ يَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ " , وَقَالَتْ : كَانَ إِذَا اشْتَكَى مِنْ أَهْلِهِ إِنْسَانٌ , لَا تَزَالُ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْهِ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , وَقَالَ : يَعْنِي رَوْحٌ بِبَغْدَادَ , كَانَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ شَيْئًا لَا تَزَالُ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے نیز اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے کوئی بیمار ہوجاتا تو آگ پر ہنڈیا مسلسل چڑھی رہتی، یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک کام (موت یا صحت مند) ہوجاتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم