حدیث نمبر: 26042
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " قَدْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِنَّهَا وِتْرُ النَّهَارِ , وَصَلَاةَ الْفَجْرِ , لِطُولِ قِرَاءَتِهِمَا , قَالَ : وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی ہوجاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر جاتے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، الشعبي لم يسمع من عائشة