حدیث نمبر: 26
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يَقْضِي : وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " ذَاكَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیوی فانی زندگی کے آخری لمحات گزار رہے تھے تو میں نے ایک شعر پڑھا (جس کا ترجمہ یہ ہے) «وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ . . . رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ» کہ وہ ایسے خوبصورت چہرے والا ہے کہ جس کے روئے انور کی برکت سے طلب باران کی جاتی ہے، یتیموں کا سہارا اور بیواؤں کا محافظ ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 26
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على ابن زيد وهو ابن جدعان