حدیث نمبر: 25705
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 أَهُوَ الرَّجُلُ يَزْنِي وَيَسْرِقُ ، وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ ؟ قَالَ : " لَا ، يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ ، وَيُصَلِّي ، وَيَتَصَدَّقُ ، وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت " الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ " کا مطلب پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو چوری اور بدکاری کرتا اور شراب پیتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنت ابی بکر، اے بنت صدیق ! یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو نماز روزہ کرتا اور صدقہ خیرات کرتا ہے اور پھر اللہ سے ڈرتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن عبدالرحمن بن سعيد لم يدرك عائشة