حدیث نمبر: 25541
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ ؟ فَقَالَ : " لَا ، إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ضعيف ووالدة يوسف مجهولة