حدیث نمبر: 25530
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَكْتَنِينَ " ، قَالَتْ : بِمَنْ أَكْتَنِي . قَالَ : " اكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ " . يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کوئی کنیت کیوں نہیں رکھ لیتیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ کس کے نام پر کنیت رکھوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ ہوگئی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على هشام