حدیث نمبر: 25477
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ : أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي ؟ قَالَ : قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ ، وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي . قَالَتْ : أَوَمَا عَلِمْتَ ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ ، إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ ، أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ ، أَوْ زَنَى ، بَعْدَمَا أُحْصِنَ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ " .
مولانا ظفر اقبال

عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں ! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق