حدیث نمبر: 25469
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَبَسَطَ يَدَهُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ ، أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة