حدیث نمبر: 25406
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ " ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَة .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه، خ: 6054، م: 2591