حدیث نمبر: 25332
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا ، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا ، فَأَخَذَتْهَا ، فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَتْ ، فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ ، كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا ( اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح بإثبات عبدالله بن أبى بكر، خ: 1418، م: 2629