حدیث نمبر: 25320
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ ، قَالَ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! تمہیں کس چیز نے رکے رکھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے اچھی تلاوت کرنے والا نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ کا شکر جس نے میری امت میں تم جیسا آدمی بنایا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره