حدیث نمبر: 25299
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَدَأَ بِي ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ ، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ؟ " قَالَتْ : قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ ، أنَّ أبوي لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ . قَالَتْ : فَقَرَأَ عَلَيَّ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 ، فَقُلْتُ : أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ ! فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4786، م: 1475