حدیث نمبر: 25244
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ الْحَدِيثُ حَدِيثَ خُرَافَةَ ؟ فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ ، أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَمَكَثَ فِيهِنَّ دَهْرًا طَوِيلًا ، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ ، فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ ، فَقَالَ النَّاسُ : حَدِيثُ خُرَافَةَ " . قَالَ أَبِي : أَبُو عَقِيلٍ هَذَا ثِقَةٌ ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازوج مطہرات کو رات کے وقت ایک کہانی سنائی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو خرافہ جیسی کہانی معلوم ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ " خرافہ " کون تھا ؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک آدمی تھا جسے زمانہ جاہلیت میں ایک جن نے قید کرلیا تھا اور وہ آدمی ایک طویل عرصے تک ان میں رہتا رہا، پھر وہ لوگ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے اور اس نے وہاں جو تعجب خیز چیزیں دیکھی تھیں، وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا تھا، وہاں سے لوگوں نے مشہور کردیا کہ " خرافہ کی کہانی ہے "

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد ابن سعيد وللاختلاف عليه فى وصله وإرساله