حدیث نمبر: 25185
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ ، وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِيَ الْإِرْبَةِ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً . فَقَالَ : إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ ، أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْكُنَّ هَذَا " ، فَحَجَبُوهُ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آتا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسے عورتوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کی پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے، اس وقت وہ مخنث ایک عورت کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ اسے یہ باتیں بھی معلوم ہوں گی، اس لئے آج کے بعد یہ تمہارے پاس کبھی نہ آئے، چنانچہ ازواج مطہرات اس سے پردہ کرنے لگیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2181