حدیث نمبر: 25131
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ ، وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا ، قُلْتُ : رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْك عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ ، قَالَ : " وَرَأَيْتِيهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ " . قَالَتْ : وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ . قَالَ سُفْيَانُ : الدَّخِيلُ : الضَّيْفُ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جواب دیا " وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ برکاتہ " اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل مجالد