حدیث نمبر: 25092
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عبدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ احتَرَقَ . فَسَأَلَهُ : " مَا شَأْنُهُ ؟ " فَقَالَ : أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ ، فَأَتَاهُ مِكْتَلٌ يُدْعَى الْعَرَقَ ، فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ " فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا ؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا) اسی اثناء میں میں ایک آدمی ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا تھا (وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہ میرا صدقہ ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے ؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں یہاں موجود ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1935، م: 1112