حدیث نمبر: 25000
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيذِ ؟ فَقَالَتْ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ " . وَدَعَتْ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً ، فَقَالَتْ لِي : سَلْ هَذِهِ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ أُوكِئُهُ وَأُعَلِّقُهُ ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ . قَالَتْ : كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال

ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء نقیر، مقیر اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، پھر انہوں سے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تو جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 25000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1990