حدیث نمبر: 24952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو ، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 952، م:892