حدیث نمبر: 24923
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا : كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا ، ائْتَزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ، ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ بِثَدْيَيْهَا ، وَنَحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال

جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پھوپھی اور خالہ نے ان سے پوچھا کہ جب آپ میں سے کسی کو ' ایام " آجاتے تو آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا کرتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم کشادہ تہبند باندھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی چھاتی اور سینہ لگاسکتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع