حدیث نمبر: 24908
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: كان يقرأ، فحسن لأجل مروان