حدیث نمبر: 24892
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَفُكُّ الْعَانِيَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ ، فَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ ، فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ " . وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : فَأَثْنَتْ عَلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں مہمان نوازی کرتا، قیدیوں کو چھڑاتا، صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ چیزیں اسے فائدہ پہنچا سکیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! نہیں، اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ پروردگار ! روز جزاء کو میری خطائیں معاف فرما دینا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح