حدیث نمبر: 24844
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 4837، م: 2820