حدیث نمبر: 24810
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ ؟ فَقَالَتْ : لَا تَفْعَلْ ، أَلَمْ تَقْرَأْ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 قَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوُلِدَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین ! میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے " تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح