حدیث نمبر: 24697
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48 أَيْنَ النَّاسُ ؟ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ ، النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تُبدَ لُ الارضُ غَیرَ الاَرضِ ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر اور یہ ایسا سوال ہے جو تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع: 24069