حدیث نمبر: 24655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي مِنْكِ ، فَقَالَتْ : سَلْ وَلَا تَسْتَحْيِ ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ ، فَسَأَلَهَا عَنِ الرَّجُلِ يَغْشَى وَلَا يُنْزِلُ ؟ فَقَالَتْ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَصَابَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال

ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کیا کہ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آرہی ہے، انہوں نے فرمایا شرماؤ نہیں، پوچھ لو، میں تمہاری ماں ہوں، چنانچہ انہوں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی پر " چھا جائے " لیکن انزال نہ ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد، فإنه ضعيف