حدیث نمبر: 24643
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ ، وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لئے تشریف لے گئے، ان کے پیچھے حضرت عمر ایک پیالے میں پانی لے کر کھڑے ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت کے بعد پوچھا عمر ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ کے وضو کے لئے پانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو ضرور ہی کروں کیونکہ اگر میں ایسا کرنے لگوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن يحيي ضعيف، وقد تفرد به، وأم عبدالله بن أبى مليكة مجهولة