حدیث نمبر: 24604
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، وَهِشَامٍ , وَيُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَعَوَاتٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ يَدْعُوَ بِهَا : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُكْثِرُ تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِيِّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ ، وَإِذَا شَاءَ أَقَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن لم يسمع من عائشة