حدیث نمبر: 24534
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي سَائِبَةُ مَوْلَاةٌ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعُونَ بِهَذَا الرُّمْحِ ؟ قَالَتْ : هَذَا لِهَذِهِ الْأَوْزَاغِ نَقْتُلُهُنَّ بِهِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغِ ، كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندھیں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الأمر بقتل الوزغ صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل سائبة مولاة الفاكه