حدیث نمبر: 24521
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ أَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ " ، قَالَ يُونُسُ : إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اعتکاف کی حالت میں کسی ضرورت کی وجہ سے گھر میں داخل ہوتی اور وہاں کوئی شخص بیمار ہوتا تو میں محض گذرتے بڑھتے اس کی خیریت دریافت کرلیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا ضرورت گھر میں نہ آتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297