حدیث نمبر: 24518
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ! قَالَتْ : وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَاكَ ، لَمَا " صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال

سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین ! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے ؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح