حدیث نمبر: 24514
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا ، فَاسْتَغَلَّهُ ، ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا ، فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ ، فَقَالَ الْبَائِعُ : غَلَّةُ عَبْدِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک غلام خریدا، اسے اپنے کام میں لگایا، پھر اس میں کوئی عیب نظر آیا تو بائع (بچنے والا) کو واپس لوٹا دیا، بائع (بچنے والا) کہنے لگے کہ میرے غلام نے جتنے دن کام کیا ہے اس کی مزدوری ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، مسلم إن كان ضعيفاً ولكن تابعه غير واحد