حدیث نمبر: 24505
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ أَخُو الْعَشِيرَةِ " ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف سے طرح متوجہ ہیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید بارگاہ رسالت میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى الأحوص