حدیث نمبر: 24498
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ ، وَأُتِيَ بِجِنَازَتِهِ ، أَمَرَتْ بِهِ عَائِشَةُ أَنْ يُمَرَّ بِهِ عَلَيْهَا ، فَشُقَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَتْ لَهُ ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ ، " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال

عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، صالح بن عجلان مجهول ولكن توبع