حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ " ، قَالَ الْقَوْمُ : مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ " ، قَالَ : مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ لَهُمْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چھینک آگئی، اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں کیا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحَمدُ لِلَہِ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الحمدُ للہ کہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم اسے کیا جواب دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے یَرحَمُک اللہ کہو۔ چھینکنے والے نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! میں انہیں کیا جواب دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں یھدیکمُ اللہ وَ یصلح بالکم کہہ دو ۔