حدیث نمبر: 24425
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : فَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ ، فَقَالَ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَأَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ " ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف شريك