حدیث نمبر: 2415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا ، إِلَّا أَنْ تَوَدُّوا اللَّهَ ، وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے پاس جو واضح آیات اور ہدایت لے کر آیا ہوں، اس پر میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اللہ سے محبت کرو، اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لضعف قزعة ابن سويد الباهلي