حدیث نمبر: 24106
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، أَوْ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " رَجُلٌ " ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ، أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ ! فَقَالَ : " أَيْ عَائِشَةُ ، شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ النَّاسُ ، أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس طرح فرمایا : پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بد ترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کیلئے چھوڑ دیا ہوگا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 24106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6054، م: 2591