حدیث نمبر: 23859
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا ، فَقَالَ لِي : يَا أَبَا رَافِعٍ ، " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَنَاوَلْتُهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ ؟ ! فَقَالَ : " لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ " ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی دستی نکال کردو چناچہ میں نے نکال دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دستی طلب فرمائی میں نے وہ بھی دے دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دستی طلب فرمائی میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک میں تم سے مانگتا رہتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمة عبدالرحمن بن أبى رافع