حدیث نمبر: 23835
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَحْنُ بِخَيْرٍ أَمْ مَنْ بَعْدَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُهُمْ أُحُدًا ذَهَبًا ، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِكُمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت یوسف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم لوگ زیادہ بہتر ہیں یا جو ہمارے بعد آئیں گے وہ ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر بعد والوں میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو تمہارے ایک مد یا اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة