حدیث نمبر: 238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : صَرَفْتُ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرِقًا بِذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَنْظِرْنِي حَتَّى يَأْتِيَنَا خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ ، قَالَ : فَسَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ مِنْهُ صَرْفَهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا مالک بن اوس بن الحدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے سونے کے بدلے چاندی کا معاملہ طے کیا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ذرا رکیے ، ہمارا خازن ”غابہ“ سے آتا ہی ہو گا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! تم اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوناجب تک کہ ان سے اپنی چیز وصول نہ کر لو ، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی چاندی کے بدلے خرید و فروخت سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2134، م: 1586