حدیث نمبر: 23793
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ ، فَقُلْتُ : لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ بَيْنِهِمْ ، مَنْ هُمْ ؟ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدةٌ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال

عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوار موڈ میں پایا میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچی چناچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالطفیل ! وہ لوگ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ملامت کی تھی وہ کون تھے ؟ ابھی انہوں نے مجھے ان کے متعلق بتانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی اہلیہ سودہ نے کہا کہ اے ابوالطفیل ! رک جائیے آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے اگر کسی مسلمان کو میں نے کوئی بد دعا دی ہو تو اسے اس شخص کے حق میں تزکیہ اور رحمت کا سبب بنا دے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي