حدیث نمبر: 23769
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ ! قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ تَجِدُونَهُ فِي أَنْفُسِكُمْ ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ " ، قَالُوا : وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ! قَالَ : " فَلَا تَأْتُوا كَاهِنًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 537