حدیث نمبر: 23765
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ بِثَلَاثَةِ أَحَادِيثَ حَفِظَهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَاءَ بِالْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَخُطُّونَ ! قَالَ : " قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَلِكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَتَطَيَّرُونَ ! قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ مَنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ ! قَالَ : " فَلَا تَأْتُوهُمْ " ، قَالَ : فَهَذَا حَدِيثٌ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم میں سے بعض لوگ زمین پر لکیریں کھنچتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی اس طرح لکیریں کھینچتے تھے سو جس کا خط اس کے موافق آجائے وہ صحیح ہوجاتا ہے میں نے پوچھا کہ ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 537