مسند احمد
مسند الأنصار رضي الله عنهم
حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23764
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ السُّلَمِيَّ وَكَانَ صَحَابِيًّا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، كُنَّا نَتَطَيَّرُ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ " ، فَقُلْتُ : وَكُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ ! قَالَ : " وَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ " .مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاً ہم پرندوں سے شگون لیتے تھے (اس کا کیا حکم ہے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو۔